حکومت کا چینی درآمد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (کلک نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں ہونے والے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد نرخ بڑھائے گئے، حکومت مافیاز کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔شبلی فراز کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی حکام سے بریفنگ لیتے ہیں، ماضی میں ہمیشہ اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا گیا جبکہ عمران خان نے ہمیشہ غریبوں کا سوچا۔ان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی ہر شخص استعمال کرتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا میکنزم بنایا جائے، جس سے تمام صوبوں میں قیمتیں یکساں ہوں۔ پنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 860 روپے اور خیبر پختونخوا میں 900 سے 1150 روپے تک ہے، جبکہ سندھ میں صوبائی حکومت کی طرف سے گندم جاری نہ کرنے کی وجہ سے قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گندم چوبیس اگست کو پہنچ رہی ہے۔ ڈیڑھ ملین سے دو ملین ٹن کا گیپ تھا، گندم آنے سے قیمتیں بھی کم اور سپلائی کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام صوبوں میں آٹے کی یکساں قیمت کے حوالے سے لائحہ عمل بنایا جا رہا ہے۔ مشیر خزانہ، صوبائی وزیر عبدالعلیم خان اور متعلقہ سیکرٹریز اس پر کام کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے مافیاز کی کمر توڑ کر عوام کو سستی اشیا پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا لیکن ہم ان مافیاز کے گٹھ جوڑ کے دباؤ میں کسی صورت نہیں آئیں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کی اپنی شوگر ملز تھیں، اس لیے ذاتی مفاد میں پالیسیاں بناتے تھے۔ چینی کی درآمد کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب شارٹیج ہوتی ہے تو قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ امپورٹ کا مقصد قیمتوں کو نیچے لانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں چینی کی قیمت کم سے کم 20 روپے نیچے آئے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کرشنگ میں تاخیر کرنے والوں کو روزانہ 50 لاکھ جرمانہ ہوگا، جرمانے کی وجہ سے شوگر کو کنٹرول میں لے آئیں گے۔ آنے والے ہفتوں میں آٹا اور چینی کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا ریلیف ملے گا۔ ذخیرہ اندوزی برداشت نہیں کریں گے۔ ہم تحقیقات کرائیں گے کہ چینی کدھر جا رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں